5 مارچ 2017 - 18:31
مالدیپ میں شاہ سلمان کی سرمایہ کاری یا داعش کیلیے جوانوں کی تلاش؟

روزنامہ نیویارک ٹائمز نے سنیچر کے روز اپنی رپورٹ میں لکھا کہ شاہ سلمان کا ایشیائی ممالک کا دورہ درحقیقت وہابیت کو فروغ دینے کے لیے انجام پارہا ہے۔

ابنا: روزنامہ نیویارک ٹائمز کے مطابق، شاہ سلمان کے سفر سے پہلے مالدیپ پولیس نے مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔ مالدیپ میں یہ خبر گشت کررہی ہے کہ مالدیپ حکومت نے ایک جزیرہ سعودی عرب کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے مخالفین نے حکومت کے خلاف احتجاج شروع کردیا ہے۔

احتجاجات کے بعد مالدیپ حکومت نے روزنامہ نگاروں اور اپوزیشن کے سرگرم کارکنوں کو گرفتار کرنا اور انہیں بند کرنا شروع کردیا ہے۔ مالدیپ کے سرگرم کارکنوں نے مالدیپ میں وہابیت اور انتہاپسندی کی ترویج پر تشویش اور فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔

البتہ مالدیپ کے صدر نے سعودی عرب کو کسی بھی جزیرے کی فروخت کئے جانے حوالے سے تردید کی ہے۔

مالدیپ حکام کا کہنا ہے کہ سعودی فرمانروا ان کے ملک میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں مگر روزنامہ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ حکومت ریاض مالدیپ میں وہابی مراکز کے قیام اور اس کی ترویج کے لیے 10 ارب ڈالر کا سرمایہ لگارہی ہے۔

روزنامہ کے مطابق، مالدیپ میں ایک طرف سے جوانوں میں بےروزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح اور دوسری طرف سے وہابیت کی انتہاپسندانہ افکار کی ترویج نے جوانوں کو دہشتگردوں گروہوں میں شمولیت کی ترغیب دلائی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مالدیپ جوانوں کی دہشتگرد گروہوں میں شمولیت کی سب سے اہم وجہ مالدیپ صدر کے سعودی عرب سے قریبی تعلقات ہیں۔

واضح رہے کہ اب تک مالدیپ کے 200 سے زائد جوان داعش میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ مالدیپ کے سرگرم کارکن اب ان جوانوں کی واپسی سے خوفزدہ ہیں کیونہ واپسی پر یہ افراد ملک میں بھی دہشتگردانہ کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169